<br />بعض مفسرین یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ تم ہر اس شخص پر حجت ہو، جو تمھاری مخالفت کرے اور یہ رسول اللہ ﷺ تم پر حجت ہیں، اس کو سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:<br /> وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ (یونس:۲)<br /> اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے۔<br />قدَمَ صِدْق کی تفسیر میں حضرت قتادہ اور حضرت حسن اور حضرت زید بن اسلم رضی اللہ تعالی عنھم کہتے ہیں کہ ’’ ھُوَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم يَشْفَعُ لَهُمْ‘‘ یعنی اس سے مراد حضور ﷺ ہیں کہ ان کی شفاعت فرمائیں گے۔ ( ابن جریر طبری ج ا ص ۵۹)<br /> حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد ان کی وہ مصیبت ہے جو ان کے نبی کے سبب سے دور ہوتی ہے۔ (یعنی نبی کا وجود قدم صدق اور خوشی کا سبب ہوتا ہے کہ مصیبتیں ان کے وجود کی برکت سے دور ہوتی ہیں۔) ( تفسیر درمنثور ج۴ ص ۳۴۲)<br /> اسی آیت کی تفسیر میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے۔ <br /> (عن ابی مردویہ عن ابی سعید کمافی تفسیر در منثور ج۴ ص ۳۴۲)<br /> ھِيَ شَفَاعَةُ نَبِيِّهِمْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللُه عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَفِيْعُ صِدْقٍ عِنْدَرَبِّهِمْ <br /> وہ ان کے نبی محمد ﷺ کی شفاعت ہے کہ اللہ عزوجل کےحضور سچے سفارشی ہیں۔<br /> سہل بن عبداللہ تستری کہتے ہیں، وہ پہلی رحمت ہے جو حضور ﷺ کے وجود گرامی میں ودیعت کی ہے اور محمد بن علی تر مذی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ صادقین و صدیقین کے امام،شفیع ، مطاع اور ایسے سائل کہ جن کی بات مانی گئی محمد ﷺ ہیں ، اس کو تر مذی رحمۃ اللہ علیہ سے سلمی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا۔<br /> <br /><br />کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ<br /> مختصر نام: الشفا شریف <br />مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ<br /> مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ<br /><br />#Shorts<br />#ShanEMustafa<br />#AshShifa<br />#IslamicShorts<br />#Shafaat<br />#الشفاء_شریف<br />#شأن_مصطفیٰ<br />#شفاعت<br />#QuranTafsir<br />#Islam<br />#Islamic<br />#ThinkGoodGreen
